Search This Blog
Monday, 1 March 2021
Eligibility Criteria For STIs Jobs 2021 Qualification Primary Matric(2nd Division)Elementary: Inter(2nd Division)Secondary & Higher Secondary: BA/B.Sc/BS(2nd Division) AgeMale Minimum 20 Years Maximum 50 YearsFemale Minimum 20 Years Maximum 55 YearsStipend/SalaryPrimary:18000 per monthElementary:20000 per monthSecondry:25000 per monthHigher Secondary: 30000 per monthRanking Criteria(Primary Level)Matric:55 MarksInter:15 MarksGraduation(2 Years)15 MarksMaster:10 MarksBS:25 MarksInterview:5 MarksRanking Criteria(Elementry Level)Matric:15 MarksInter:55 MarksGraduation(2 Years)15 MarksMaster:10 MarksBS:25 MarksInterview:5 Marks Ranking Criteria(Secondary & H.Sec Level)Matric:15 MarksInter:15 MarksGraduation(2 Years)55 MarksMaster:10 MarksBS:65 MarksInterview:5 MarksNote: Marks Calculation Formula: Marks Obtained/Total Marks*Marks Allocated(up to 3 digits after decimal) Timeline For STIs Jobs 2021Advertisement: 1st July 2021Application Submission Date:15th July 2021Pri-Interview Merit List:19th July 2021Interview:20th July To 3rd August 2021Final Merit List:23rd July To 4th August 2021Internship Letter: 5th August To 11th AugustTenure Of InternshipOne academic session or till the arrival of regular incumbent/contract appointee, whichever is earlier. In case a new vacant saturation occurs or Internee resigns or is not willing to join, the next candidate in the merit list shall be given an opportunity to serve as Internee for the remaining period of the contract with the aforementioned criteria.Terms Of InternshipPlacement shall be purely temporary and stop-gap arrangement, which can be terminated by the Selection Committee at any time due to unsatisfactory performance.Joining PeriodThe STI will have to assure acceptance of internship letter to school within 7 days after the issuance of internship letter otherwise stand withdrawn/canceled.LeaveTwo casual leaves per month (without stipend) are entitled to STI.No Righ Of Regular PlacementPlacement shall not confer right of regular placement nor shall such placement be regularized under any circumstances. The interns shall be entitled only one chance and the contract should not be extended at any cost.TransferThe placement shall be non transferable and school specific only.
Tuesday, 19 January 2021
HEC revised Policy 2020ہائیر ایجوکیشن کمیشن پاکستان نے پی ایچ ڈی کے لیے ایم ایس اور ایم فل کی شرط ختم کر دی ہے۔ ہائیر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) کی جانب سے پی ایچ ڈی کی پالیسی کا نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا جس سے پُرانے طلبا بھی مستفید ہوں گے۔ اس حوالے سے ایچ ای سی کے چیئرمین طارق بنوری نے کہا کہ پی ایچ ڈی میں ایم ایس،ایم فل کی شرط ختم کر دی گئی ہے، طلبا اب بی ایس کے بعد براہ راست پی ایچ ڈی میں داخلہ لے سکتے ہیں۔طلبا کے لیے پریکٹیکل کے طور پر انٹرن شپ لازمی قرار دی گئی ہے، طلبا اپنے شہر میں رہ کر ان پیڈ انٹرنشپ کریں گے۔ اُن کا کہنا تھا کہ ہمیں ڈگری کی ویلیو بڑھنے کی فکر ہے، طلبا کو غیر نصابی سرگرمیوں میں حصہ لینا لازمی ہوگا۔جبکہ جنرل ایجوکیشن لینا بھی لازمی ہو گا۔ خبر رساں ادارے کے مطابق اس نوٹیفکیشن کے مطابق اس پالیسی کا اطلاق بیک وقت پورے ملک کی جامعات میں کوالٹی پی ایچ ڈی کی پروڈکشن کے لیے ہوگا، نوٹیفیکیشن کے تحت جامعات میں پہلے سے انرولڈ پی ایچ ڈی کے طلبہ پر مکمل یا من و عن اطلاق نہیں ہوگا تاہم پالیسی کے کچھ جزوی حصوں سے پُرانے طلبا فائدہ لے سکتے ہیں۔اس حوالے سے نوٹیفیکیشن میں پالیسی کے annexure 1.8 کا حوالہ دیا گیا جس کے
Saturday, 2 January 2021
Friday, 11 December 2020
Tuesday, 8 December 2020
12 Common mistake in Urdu writing
*اردو لکھنے میں کی جانے والی 12 غلطیاں*
*پہلی غلطی*:
اردو کے مرکب الفاظ الگ الگ کر کے لکھنا چاہئیں، کیوں کہ عام طور پر کوئی بھی لفظ لکھتے ہوئے ہر لفظ کے بعد ایک وقفہ (اسپیس) چھوڑا جاتا ہے، اس لئے یہ خود بخود الگ الگ ہو جاتے ہیں۔
دراصل تحریری اردو طویل عرصے تک ’کاتبوں‘ کے سپرد رہی، جو جگہ بچانے کی خاطر اور کچھ اپنی بے علمی کے سبب بہت سے لفظ ملا ملا کر لکھتے رہے۔ جس کی انتہائی شکل ہم ’آجشبکو‘ کی صورت میں دیکھ سکتے ہیں۔ بہت سے ماہرِ لسانیات کی کوششوں سے اب الفاظ الگ الگ کر کے لکھے تو جانے لگے ہیں، لیکن اب بھی بہت سے لوگ انہیں بدستور جوڑ کر لکھ رہے ہیں۔ بات یہ ہے کہ جب یہ اردو کے الگ الگ الفاظ ہیں، تو مرکب الفاظ کی صورت میں جب انہیں ملا کر لکھا جاتا ہے، تو نہ صرف پڑھنا دشوار ہوتا ہے، بلکہ ان کی ’شکل‘ بھی بگڑ جاتی ہے۔
مندرجہ ذیل میں ان الفاظ کی 12 اقسام یا ’طرز‘ الگ الگ کر کے بتائی جا رہی ہیں، جو دو الگ الگ الفاظ ہیں یا ان کی صوتیات کو سامنے رکھتے ہوئے انہیں الگ الگ کرکے لکھنا ضروری ہے۔
- جب کہ، چوں کہ، چناں چہ، کیوں کہ، حالاں کہ
- کے لیے، اس لیے، اس کو، آپ کو، آپ کی، ان کو، ان کی
- طاقت وَر، دانش وَر، نام وَر
- کام یاب، کم یاب، فتح یاب، صحت یاب
- گم نام، گم شدہ
- خوش گوار، خوش شکل
- الم ناک، وحشت ناک، خوف ناک
- دہشت ناک، کرب ناک
- صحت مند، عقل مند، دانش مند،
- شان دار، جان دار، کاٹ دار،
*اَن مول، اَن جانا، اَن مٹ، اَن دیکھا، اَن چُھوا
- بے وقوف، بے جان، بے کار، بے خیال، بے فکر، بے ہودہ، بے دل، بے شرم، بے نام،
- امرت سر، کتاب چہ
*خوب صورت، خوب سیرت وغیرہ
*دوسری غلطی*
اردو لکھتے ہوئے ہمیں یک سان آواز مگر مختلف املے کے الفاظ کا خیال رکھنا چاہیے، جیسے کہ ’کے اور کہ، سہی اور صحیح، صدا اور سدا، نذر اور نظر، ہامی اور حامی، سورت اور صورت، معرکہ اور مارکہ، قاری اور کاری، جانا اور جاناں وغیرہ
*تیسری غلطی*
اردو کا اہم ذخیرہ الفاظ فارسی کے علاوہ عربی کے الفاظ پر بھی مشتمل ہے، جس میں بہت سی تراکیب بھی عربی کی ہیں، ان کو لکھتے ہوئے ان کے املے کا خیال رکھنا چاہیے، جس میں بعض اوقات الف خاموش (سائلنٹ) ہوتا ہے جیسے بالکل، بالخصوص، بالفرض، بالغرض وغیرہ۔ جب کہ کہیں چھوٹی ’ی‘ یا کسی اور لفظ پر کھڑی زبر ہوتی ہے، جو الف کی آواز دیتی ہے، جیسے وزیراعلیٰ، رحمٰن اور اسحٰق وغیرہ، اسی طرح بہت سی عربی تراکیب میں ’ل‘ ساکت ہوتا ہے جیسے ’السلام علیکم‘ اسے ’ل‘ کے بغیر لکھنا فاش غلطی ہے۔
*چوتھی غلطی*
زیر والے مرکب الفاظ جیسے جانِِ من (نہ کہ جانے من) جانِ جاں (نہ کہ جانے جاں) شانِ کراچی (نہ کہ شانے کراچی) فخرِ پنجاب (نہ کہ فخرے پنجاب) اہلِ محلہ ( نہ کہ اہلے محلہ) وغیرہ کی غلطی بھی درست کرنا ضروری ہے۔
*پانچویں غلطی*
اپنے جملوں میں مستقبل کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے ’کر دینا ہے‘ نہیں بلکہ ’کردیں گے‘ لکھنا چاہیے، جیسے اب تم آگئے ہو تو تم بول بول کے میرے سر میں درد کر دو گے (نہ کہ کردینا ہے) اب ٹیچر آگئے ہیں تو تم کتاب کھول کر پڑھنے کی اداکاری شروع کر دو گے (نہ کہ کردینی ہے) لکھنا چاہیے۔
*چھٹی غلطی*
اردو کے ’مہمل الفاظ‘ میں’ش‘ کا نہیں بلکہ ’و‘ کا استعمال کیا جاتا ہے، جیسے کتاب وتاب، کلاس ولاس، اسکول وسکول، پڑھائی وڑھائی، عادت وادت وغیرہ۔ انہیں کتاب شتاب، کلاس شلاس لکھنا غلط ہے۔
*ساتویں غلطی*
اردو میں دو زبر یعنی‘ تنوین‘ والے لفظوں کو درست لکھنا چاہیے، اس میں دو زبر مل کر ’ن‘ کی آواز دیتے ہیں جیسے تقریباً، اندازاً، عادتاً، اصلاً، نسلاً، ظاہراً، مزاجاً وغیرہ۔
*آٹھویں غلطی*
کسی بھی لفظ کے املے میں ’ن‘ اور ’ب‘ جہاں ملتے ہیں وہاں ’م‘ کی آواز آتی ہے، اس کا بالخصوص خیال رکھنا چاہے ’ن‘ اور ’ب‘ ہی لکھا جائے ’م‘ نہ لکھا جائے، جیسے انبار، منبر، انبوہ، انبالہ، استنبول، انبیا، سنبھل، سنبھال، اچنبھا، عنبرین، سنبل وغیرہ
*نویں غلطی*
اردو کے ان الفاظ کی درستی ملحوظ رکھنا چاہیے جو الف کی آواز دیتے ہیں، لیکن کسی کے آخر میں ’ہ‘ ہے اور کسی کے آخر میں الف۔ انہیں لکھتے ہوئے غلطی کی جائے، تو اس کے معانی میں زمین آسمان کا فرق پیدا ہو جاتا ہے۔ جیسے گلہ اور گلا، پیسہ اور پیسا، زن اور ظن، دانہ اور دانا وغیرہ وغیرہ۔
*دسویں غلطی*
الف کی آواز پر ختم ہونے والے الفاظ چاہے وہ گول ’ہ‘ پر ختم ہوں یا ’الف‘ پر، انہیں جملے میں استعمال کرتے ہوئے بعض اوقات جملے کی ضرورت کے تحت ’جمع‘ کے طور پر لکھا جاتا ہے، حالاں کہ وہ واحد ہی ہوتے ہیں۔ ایسے میں جملے کا پچھلا حصہ یا اس سے پہلے والا جملہ یہ بتا رہا ہوتا ہے کہ یہ دراصل ’ایک‘ ہی چیز کا ذکر ہے۔ جیسے:
میرے پاس ایک ’بکرا‘ تھا، اس ’بکرے‘ کا رنگ کالا تھا۔
میرے پاس ایک ’چوزا‘ تھا، ’چوزے‘ کے پر بہت خوب صورت تھے۔
ہمارا ’نظریہ‘ امن ہے اور اس ’نظریے‘ کے تحت ہم محبتوں کو پھیلانا چاہتے ہیں۔
جلسے میں ایک پرجوش ’نعرہ‘ لگایا گیا اور اس ’نعرے‘ کے بعد لوگوں میں جوش وخروش پیدا ہوگیا۔ ’ کوا ‘چونچ میں روٹی کا ٹکڑا پکڑا ہوا تھا، جوں ہی ’کوّے‘ سے روٹی کا ٹکڑا چُھوٹا، توں ہی وہ کائیں کائیں کرنے لگا۔
ایک ’کوا‘ پیاسا تھا، اس ’کوے‘ نے پانی کی تلاش میں اڑنا شروع کیا۔
*گیارہویں غلطی*
انگریزی الفاظ لکھتے ہوئے خیال رکھنا چاہیے کہ جو الفاظ یا اصطلاحات (ٹرمز) رائج ہو چکی ہیں، یا جن کا کوئی ترجمہ نہیں ہے یا ترجمہ ہے تو وہ عام طور پر استعمال نہیں ہوتا، اس لیے انہیں ترجمہ نہ کیا جائے بلکہ انگریزی میں ہی لکھ دیا جائے۔ دوسری بات یہ ہے کہ جن انگریزی الفاظ کو اردو میں لکھا جائے گا، ان کی جمع اردو کی طرز پر بنائی جائے گی، نہ کہ انگریزی کی طرز پر، جیسے اسکول کی اسکولوں، کلاس کی کلاسوں، یونیورسٹی کی یونیورسٹیوں، اسٹاپ کی اسٹاپوں وغیرہ۔ تیسری بات یہ ہے کہ انگریزی کے بہت سے ایسے الفاظ جو ’ایس‘ سے شروع ہوتے ہیں، لیکن ان کے شروع میں ’الف‘ کی آواز ہوتی ہے، انہیں اردو میں لازمی طورپر الف کے ساتھ لکھا جائے گا۔ جیسے اسکول، اسٹاپ، اسٹاف، اسٹیشن، اسمال، اسٹائل، اسٹوری، اسٹار وغیرہ۔ لیکن ایسے الفاظ جو شروع تو ’ایس‘ سے ہوتے ہیں لیکن ان کے شروع میں الف کی آواز نہیں ہے انہیں الف سے نہیں لکھا جائے گا، جیسے سچیویشن، سورس، سینڈیکیٹ، سیمسٹر، سائن اوپسس وغیرہ۔
*بارہویں غلطی*
ہندوستانی فلموں نے اردو پر جو بھدا اثر ڈالا ہے، ان میں سے ایک یہ ہے کہ وہاں لفظ ’اپنا‘ کی جگہ میرا بولا جاتا ہے۔ ہمیں اردو لکھتے ہوئے اسے ٹھیک کرنا چاہیے، اس لیے ’میں میرے نہیں‘ بلکہ ’میں اپنے لکھا جائے‘ جیسا کہ میں میرے گھر میں میرے بھائی کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا۔ یہ بالکل غلط ہوگا، درست جملہ یوں ہوگا کہ میں اپنے گھر میں اپنے بھائی کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا۔
*نقل و ارسال*
انتخاب: سلیم خان
Subscribe to:
Posts (Atom)
-
*100 Most Famous Urdu Proverbs with English Translation* *1. جسے اللہ رکھے اُسے کون چکھے* Jisay Allah Rakhay usay kon Chakhay. If Allah w...
-
لیڈر شپ تھیوریز ـ ـــــــــ 1) لیڈر ہمیشہ پیدا ہوتے ہیں ــــــــ اِن کو خود سے بنایا نہیں جا سکتا (Great man theory) 2)ـٹریٹ تھیوری (Trai...
-
1. In teaching experienced members guide the immature one’s for (a) Spending time (b) Qualification (c) Quality of life (d) Adjustment o...