Search This Blog

Tuesday, 8 December 2020

12 ‏Common mistake in Urdu writing ‎ ‏

*اردو لکھنے میں کی جانے والی 12  غلطیاں*

*پہلی غلطی*:
اردو کے مرکب الفاظ الگ الگ کر کے لکھنا چاہئیں، کیوں کہ عام طور پر کوئی بھی لفظ لکھتے ہوئے ہر لفظ کے بعد ایک وقفہ (اسپیس) چھوڑا جاتا ہے، اس لئے یہ خود بخود الگ الگ ہو جاتے ہیں۔

دراصل تحریری اردو طویل عرصے تک ’کاتبوں‘ کے سپرد رہی، جو جگہ بچانے کی خاطر اور کچھ اپنی بے علمی کے سبب بہت سے لفظ ملا ملا کر لکھتے رہے۔ جس کی انتہائی شکل ہم ’آجشبکو‘ کی صورت میں دیکھ سکتے ہیں۔ بہت سے ماہرِ لسانیات کی کوششوں سے اب الفاظ الگ الگ کر کے لکھے تو جانے لگے ہیں، لیکن اب بھی بہت سے لوگ انہیں بدستور جوڑ کر لکھ رہے ہیں۔ بات یہ ہے کہ جب یہ اردو کے الگ الگ الفاظ ہیں، تو مرکب الفاظ کی صورت میں جب انہیں ملا کر لکھا جاتا ہے، تو نہ صرف پڑھنا دشوار ہوتا ہے، بلکہ ان کی ’شکل‘ بھی بگڑ جاتی ہے۔

مندرجہ ذیل میں ان الفاظ کی 12 اقسام یا ’طرز‘ الگ الگ کر کے بتائی جا رہی ہیں، جو دو الگ الگ الفاظ ہیں یا ان کی صوتیات کو سامنے رکھتے ہوئے انہیں الگ الگ کرکے لکھنا ضروری ہے۔

- جب کہ، چوں کہ، چناں چہ، کیوں کہ، حالاں کہ
- کے لیے، اس لیے، اس کو، آپ کو، آپ کی، ان کو، ان کی
- طاقت وَر، دانش وَر، نام وَر
- کام یاب، کم یاب، فتح یاب، صحت یاب
- گم نام، گم شدہ
- خوش گوار، خوش شکل
- الم ناک، وحشت ناک، خوف ناک
- دہشت ناک، کرب ناک
- صحت مند، عقل مند، دانش مند،
- شان دار، جان دار، کاٹ دار،
*اَن مول، اَن جانا، اَن مٹ، اَن دیکھا، اَن چُھوا
- بے وقوف، بے جان، بے کار، بے خیال، بے فکر، بے ہودہ، بے دل، بے شرم، بے نام،
- امرت سر، کتاب چہ
*خوب صورت، خوب سیرت وغیرہ

*دوسری غلطی*
اردو لکھتے ہوئے ہمیں یک سان آواز مگر مختلف املے کے الفاظ کا خیال رکھنا چاہیے، جیسے کہ ’کے اور کہ، سہی اور صحیح، صدا اور سدا، نذر اور نظر، ہامی اور حامی، سورت اور صورت، معرکہ اور مارکہ، قاری اور کاری، جانا اور جاناں وغیرہ

*تیسری غلطی*
اردو کا اہم ذخیرہ الفاظ فارسی کے علاوہ عربی کے الفاظ پر بھی مشتمل ہے، جس میں بہت سی تراکیب بھی عربی کی ہیں، ان کو لکھتے ہوئے ان کے املے کا خیال رکھنا چاہیے، جس میں بعض اوقات الف خاموش (سائلنٹ) ہوتا ہے جیسے بالکل، بالخصوص، بالفرض، بالغرض وغیرہ۔ جب کہ کہیں چھوٹی ’ی‘ یا کسی اور لفظ پر کھڑی زبر ہوتی ہے، جو الف کی آواز دیتی ہے، جیسے وزیراعلیٰ، رحمٰن اور اسحٰق وغیرہ، اسی طرح بہت سی عربی تراکیب میں ’ل‘ ساکت ہوتا ہے جیسے ’السلام علیکم‘ اسے ’ل‘ کے بغیر لکھنا فاش غلطی ہے۔

*چوتھی غلطی*
زیر والے مرکب الفاظ جیسے جانِِ من (نہ کہ جانے من) جانِ جاں (نہ کہ جانے جاں) شانِ کراچی (نہ کہ شانے کراچی) فخرِ پنجاب (نہ کہ فخرے پنجاب) اہلِ محلہ ( نہ کہ اہلے محلہ) وغیرہ کی غلطی بھی درست کرنا ضروری ہے۔

*پانچویں غلطی*
اپنے جملوں میں مستقبل کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے ’کر دینا ہے‘ نہیں بلکہ ’کردیں گے‘ لکھنا چاہیے، جیسے اب تم آگئے ہو تو تم بول بول کے میرے سر میں درد کر دو گے (نہ کہ کردینا ہے) اب ٹیچر آگئے ہیں تو تم کتاب کھول کر پڑھنے کی اداکاری شروع کر دو گے (نہ کہ کردینی ہے) لکھنا چاہیے۔

*چھٹی غلطی*
اردو کے ’مہمل الفاظ‘ میں’ش‘ کا نہیں بلکہ ’و‘ کا استعمال کیا جاتا ہے، جیسے کتاب وتاب، کلاس ولاس، اسکول وسکول، پڑھائی وڑھائی، عادت وادت وغیرہ۔ انہیں کتاب شتاب، کلاس شلاس لکھنا غلط ہے۔

*ساتویں غلطی*
اردو میں دو زبر یعنی‘ تنوین‘ والے لفظوں کو درست لکھنا چاہیے، اس میں دو زبر مل کر ’ن‘ کی آواز دیتے ہیں جیسے تقریباً، اندازاً، عادتاً، اصلاً، نسلاً، ظاہراً، مزاجاً وغیرہ۔

*آٹھویں غلطی*
کسی بھی لفظ کے املے میں ’ن‘ اور ’ب‘ جہاں ملتے ہیں وہاں ’م‘ کی آواز آتی ہے، اس کا بالخصوص خیال رکھنا چاہے ’ن‘ اور ’ب‘ ہی لکھا جائے ’م‘ نہ لکھا جائے، جیسے انبار، منبر، انبوہ، انبالہ، استنبول، انبیا، سنبھل، سنبھال، اچنبھا، عنبرین، سنبل وغیرہ

*نویں غلطی*
اردو کے ان الفاظ کی درستی ملحوظ رکھنا چاہیے جو الف کی آواز دیتے ہیں، لیکن کسی کے آخر میں ’ہ‘ ہے اور کسی کے آخر میں الف۔ انہیں لکھتے ہوئے غلطی کی جائے، تو اس کے معانی میں زمین آسمان کا فرق پیدا ہو جاتا ہے۔ جیسے گلہ اور گلا، پیسہ اور پیسا، زن اور ظن، دانہ اور دانا وغیرہ وغیرہ۔

*دسویں غلطی*
الف کی آواز پر ختم ہونے والے الفاظ چاہے وہ گول ’ہ‘ پر ختم ہوں یا ’الف‘ پر، انہیں جملے میں استعمال کرتے ہوئے بعض اوقات جملے کی ضرورت کے تحت ’جمع‘ کے طور پر لکھا جاتا ہے، حالاں کہ وہ واحد ہی ہوتے ہیں۔ ایسے میں جملے کا پچھلا حصہ یا اس سے پہلے والا جملہ یہ بتا رہا ہوتا ہے کہ یہ دراصل ’ایک‘ ہی چیز کا ذکر ہے۔ جیسے:

میرے پاس ایک ’بکرا‘ تھا، اس ’بکرے‘ کا رنگ کالا تھا۔

میرے پاس ایک ’چوزا‘ تھا، ’چوزے‘ کے پر بہت خوب صورت تھے۔

ہمارا ’نظریہ‘ امن ہے اور اس ’نظریے‘ کے تحت ہم محبتوں کو پھیلانا چاہتے ہیں۔

جلسے میں ایک پرجوش ’نعرہ‘ لگایا گیا اور اس ’نعرے‘ کے بعد لوگوں میں جوش وخروش پیدا ہوگیا۔ ’ کوا ‘چونچ میں روٹی کا ٹکڑا پکڑا ہوا تھا، جوں ہی ’کوّے‘ سے روٹی کا ٹکڑا چُھوٹا، توں ہی وہ کائیں کائیں کرنے لگا۔

ایک ’کوا‘ پیاسا تھا، اس ’کوے‘ نے پانی کی تلاش میں اڑنا شروع کیا۔

*گیارہویں غلطی*
انگریزی الفاظ لکھتے ہوئے خیال رکھنا چاہیے کہ جو الفاظ یا اصطلاحات (ٹرمز) رائج ہو چکی ہیں، یا جن کا کوئی ترجمہ نہیں ہے یا ترجمہ ہے تو وہ عام طور پر استعمال نہیں ہوتا، اس لیے انہیں ترجمہ نہ کیا جائے بلکہ انگریزی میں ہی لکھ دیا جائے۔ دوسری بات یہ ہے کہ جن انگریزی الفاظ کو اردو میں لکھا جائے گا، ان کی جمع اردو کی طرز پر بنائی جائے گی، نہ کہ انگریزی کی طرز پر، جیسے اسکول کی اسکولوں، کلاس کی کلاسوں، یونیورسٹی کی یونیورسٹیوں، اسٹاپ کی اسٹاپوں وغیرہ۔ تیسری بات یہ ہے کہ انگریزی کے بہت سے ایسے الفاظ جو ’ایس‘ سے شروع ہوتے ہیں، لیکن ان کے شروع میں ’الف‘ کی آواز ہوتی ہے، انہیں اردو میں لازمی طورپر الف کے ساتھ لکھا جائے گا۔ جیسے اسکول، اسٹاپ، اسٹاف، اسٹیشن، اسمال، اسٹائل، اسٹوری، اسٹار وغیرہ۔ لیکن ایسے الفاظ جو شروع تو ’ایس‘ سے ہوتے ہیں لیکن ان کے شروع میں الف کی آواز نہیں ہے انہیں الف سے نہیں لکھا جائے گا، جیسے سچیویشن، سورس، سینڈیکیٹ، سیمسٹر، سائن اوپسس وغیرہ۔

*بارہویں غلطی*
ہندوستانی فلموں نے اردو پر جو بھدا اثر ڈالا ہے، ان میں سے ایک یہ ہے کہ وہاں لفظ ’اپنا‘ کی جگہ میرا بولا جاتا ہے۔ ہمیں اردو لکھتے ہوئے اسے ٹھیک کرنا چاہیے، اس لیے ’میں میرے نہیں‘ بلکہ ’میں اپنے لکھا جائے‘ جیسا کہ میں میرے گھر میں میرے بھائی کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا۔ یہ بالکل غلط ہوگا، درست جملہ یوں ہوگا کہ میں اپنے گھر میں اپنے بھائی کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا۔
*نقل و ارسال*
انتخاب: سلیم خان

📢🎤📢🎤📢🎤 ‎*🌼خوش آئند فیصلہ برائے ٹرانسفر سنگل سکول ٹیچرز🌼**🏵️محترم اساتذہ کرام! سیکرٹری سکولز پنجاب نے سنگل سائنس سکول ٹیچرز کو تین سالہ مدت پوری کرنےکےبعدتبادلہ کی سہولت دینے کی سفارش کردی ہے**🌷 ‎امید ہے اس سہولت سے تمام سنگل سکول ٹیچرز کو سہولت ملےگی۔**🌺ہم اس فیصلہ کو قابل تحسین قرار دیتے ہیں* ☝🏼🌹🌹🌹🌹🌹 ‎*_Good News ‎!!!_**_All kinds of single teachers especially Single Science Teacher will be able for transfer in the next round of E-transfer._* ‏

Advance increment for English Teacher in punjab

Sunday, 29 November 2020

Verb

*Verb*
 
Verb is a word which shows action and state of being ...
Thus verb shows two things 
1...Action.....and ...2...state of being ..

The verb which shows action is called as DYNAMIC VERB , whileas the verb which doesn't show action ( shows state i,e...what a person is ) is called as STATIVE verb ...

Dynamic verbs change their form like play,plays  ,played ,
While as STATIVE verbs don't change their form (..e.g...is , was ,)
Sometimes the verb is incomplete 
E.g ...she seems 
Such a verb which is incomplete is called as incomplete predication..
well, it requires a word to get completed like happy...
She seems HAPPY..
The word  "happy" completes above verb ...
The word which completes the verb is called as complement of the verb

*TYPES OF VERB*

She plays cricket .
Look at the above sentence , it has both subject and object..
The verb which passes from subject to object or simply which has both subject and object is called as 
TRANSISTIVE VERB...

She Died ...
In this verb doesn't pass from subject to object...
Such a verb is called as intransitive verb....


Moreover, sometimes a verb may have two objects like.

Sahil plays chess and volley ball...

Such a verb is called as Di- TRANSISTIVE  verb.

Sunday, 15 November 2020

Leave Rules In School Education Deparment

*Leave Rules in Education Department Punjab Pakistan*

If you are working in Punjab School Education Department then it is utmost important to get familiarization about your departmental rules about sanctioning leaves. One of most important news is casual leave sanctioning through online by HRMS.

*Types of Leaves*
There are different types of leaves are allowed for any employee especially teachers of school education department. These all leave types you can avail by understand the procedure of how can apply for leave.

*Casual Leave*
♦ 25 Days Casual leaves are allowed in a year.

♦ You can take up to 10 days leave at a time by Dy. DEO.

♦ You can also take 15 days leave at a time by competent authority.

*E-Leaves / Earned Leaves*
You have earned a bonus of 120 days (1×12=12 after 10 years of service you will earn a bonus of 120 days) after your service of more then 16 days so you can take E/leaves without medical certificate but they will be excluded from your bonus you can also take/leaves of 180 days but with medical certificate.

*Extraordinary Leaves*
If your service is of 5 years and you want to take 2 years leave you can apply for EOL But with out pay and they will be deducted from your total service.

*Special Leave*
 (Not deducted from your bonus)
♦ Maternity leave
Maternity leave of 90 days female two time in entire service with full pay.

♦ Paternity Leave
Paternity leave of 15 days.

♦ Hajj Leave
Hajj Leave or Ex Pakistan Leave of 40 days.

♦ Iddat Leave
Iddat leave of 130 days once in a service with pay for females.

♦ Sick Leave
Sick leave of 90 days with medical certificate

♦ Hospital Leave
Hospital leave of 6 month in case you met with any accident.

♦ Half Pay Leave
If you want to take more then E-Leave you can but on half pay.

♦ Study Leave
Study leave, you can apply for it after you become permanent till completion course with basic pay.. normally two years.