Search This Blog

Saturday, 4 April 2020

*[Important Message About Regularization Dates of Educators & Importance of B.Ed/MA Education]*

*[Important Message  About Regularization Dates of Educators & Importance of B.Ed/MA Education]*

*♦️(1) ستمبر 2002 سے لے کر 19 اکتوبر 2009 تک جائن ھونے والے "ایجوکیٹرز" اور سن 2000 میں بھرتی شدہ "JSMTs" & "SSMTs" کی ریگولر تاریخ "19 اکتوبر 2009" ھے-* 

*♦️(2) جن ایجوکیٹرز کی بھرتی کا اخبار اشتہار 19 اکتوبر 2009 سے پہلے آ گیا تھا لیکن ان کی جائننگ مذکورہ تاریخ یعنی 19 اکتوبر کے بعد ھوئی؛ ان کی ریگولر تاریخ "10 ستمبر 2011" ھے-* 

*♦️(3) جن ایجوکیٹرز کا بھرتی اخبار اشتہار 19 اکتوبر 2009 کے بعد آیا تھا؛ ان کی ریگولر تاریخ "7 اگست 2015" ھے-*

*♦️(4) ریکروٹمنٹ پالیسی 2012-2011 کے تحت بھرتی شدہ ایجوکیٹرز کی ریگولر تاریخ بھی "7 اگست 2015" ھے-*                     
*♦️(5) ریکروٹمنٹ پالیسی 2013 کے تحت 30 اپریل 2014 تک جائن ھونے والے ایجوکیٹرز کی ریگولر تاریخ "30 اپریل 2018" ھے- ان کو پنجاب ریگولرائزیشن سروسز ایکٹ 2018 کے تحت ریگولر کیا گیا ھے-*
   
*♦️(6) یکم مئی 2014 یا اس کے بعد جائن ھونے والے ایجوکیٹرز (ESE & SESE) کو ریگولرائزیشن ایکٹ کے ترمیمی آرڈینینس 2019 کے تحت کچھ اضلاع میں ان کی 3 سالہ کنٹریکٹ سروس پوری ھونے کی تاریخ سے ریگولر کیا گیا ھے؛ تاھم بعض اضلاع میں مذکورہ ایجوکیٹرز کو تین سالہ مدت کی بجائے ریگولر آرڈرز جاری کرنے کی تاریخ سے مستقل کیا گیا ھے؛ اس ضمن میں "پنجاب ایجوکیٹرز ایسوسی ایشن" کی Fully کوشش ھے اور ھم نے سیکرٹری سکولز کو Clarification کے لئے درخواست بھی جمع کروائی ھے کہ 2014 اور اس کے بعد جائن ھونے والے تمام ایجوکیٹرز کو ریگولرائزیشن ایکٹ 2018 اور ترمیمی آرڈینینس 2019 کے مطابق ان کی "مکمل تین سالہ سروس" کی تاریخ سے ریگولر کیا جائے-*

*♦️(7) ریگولرائزیشن ایکٹ 2018 کی وجہ سے ایک طرف تو تمام کنٹریکٹ ملازمین کے لئے 3 سالہ مدت  کے بعد ریگولر ھونے کا تعین ھو گیا اور اب ان کو سابقہ دور میں بھرتی شدہ ایجوکیٹرز کی طرح 7 یا 9 سال تک مستقلی کے لئے انتظار نہیں کرنا پڑے گا؛ تاھم دوسری طرف بدقسمتی سے مذکورہ ایکٹ کی وجہ سے 2014 اور اس کے بعد بھرتی شدہ تمام SSEs / AEOs کے لئے پرانے Simple طریقہ کار کے مطابق مستقل ھونے میں رکاوٹ آ رھی ھے؛ جس کے لئے PEA اور دیگر اساتذہ تنظیمیں تمام SSE/AEOs کو بغیر PPSC ریگولر کروانے کے لئے جدوجہد کر رھی ھیں- انشاءاللہ جلد یہ مسئلہ بھی حل ھو جائے گا-*

*👉[Importance of Professional Degree]*👈

*♦️(8) بعض ایجوکیٹرز کو B.Ed یا MA ایجوکیشن رزلٹ Declaration Date سے بھی ریگولر کیا گیا ھے- یہ وہ ایجوکیٹرز ھیں جنہوں نے اپنے Batch Fellows کی ریگولرائزیشن تاریخ کے بعد B.Ed پاس کیا اور اسی کی بنیاد پر وہ دیر سے اور مختلف تاریخوں میں ریگولر کئے گئے ھیں- اس سے ان ایجوکیٹرز کو سنیارٹی میں بھی نقصان ھوا ھے-*

*♦️(9) یاد رھے کہ ریگولر ھونے کے لئے متعلقہ ریگولر پوسٹ کی Academic اور Professional قابلیت کا حامل ھونا ضروری ھوتا ھے اور SED پنجاب کی طرف سے جاری ھونے والے تمام ریگولرائزیشن نوٹیفیکیشنز میں ان Service Rules کا حوالہ موجود ھے- کچھ اضلاع میں 2009 کے بھرتی شدہ ایجوکیٹرز کے ریگولر آرڈرز Without بی ایڈ جاری کر دئیے گئے تھے لیکن اس پوسٹ کے لئے B.ED ھونا بھی ضروری تھا لہذا جب سنیارٹی میں اختلاف کی وجہ سے دوسرے ایجوکیٹرز کی طرف سے کورٹ کیس دائر ھوا تو عدالت نے بھی محکمانہ قواعد و ضوابط کے مطابق B.Ed کو ضروری قرار دیا اور مذکورہ ایجوکیٹرز کے Without بی ایڈ ریگولر آرڈرز کو غلط قرار دیا اور پھر متعلقہ اتھارٹیز نے ان آرڈرز کو Withdraw کر کے نئے آرڈرز جاری کئے-*

*♦️(10) جس وقت بھی "PEA" کی کوششوں سے ایجوکیٹرز کو کنٹریکٹ جائئنگ تاریخ سے سنیارٹی کا حق ملے گا تو اس وقت بھی ایجوکیٹرز کی پروفیشنل کوالیفیکیشن یعنی B.Ed یا MA ایجوکیشن کی کافی اھمیت سامنے آئے گی- زیادہ امکان یہی ھے کہ تاریخ جائننگ سے ریگولر ھونے اور سنیارٹی کا حق ملنے کے بعد پروفیشنل ڈگری کے بغیر بھرتی شدہ ایجوکیٹرز پر بھی Un Trained ٹیچرز کے سروس رولز کو اپلائی کیا جائے گا یعنی ان کی ابتدائی کنٹریکٹ سروس کا دورانیہ Pension کے لئے Count کر لیا جائے گا اور ان کو اس عرصہ کی سالانہ انکریمنٹس بھی مل جائیں گی لیکن سنیارٹی پروفیشنل ڈگری کی رزلٹ Declartion Date سے شمار کی جائے گی- 1980 سے 1990 کے درمیان Without پروفیشنل ڈگری ان ٹرینڈ اساتذہ بھرتی کئے جاتے تھے جن کو JV/PTC/ CT یا B.Ed وغیرہ پاس کرنے کی تاریخ سے ریگولر کیا جاتا تھا اور سنیارٹی بھی اسی تاریخ سے ملتی تھی-*

*♦️(11) اتنی جامع تفصیل لکھنے کا ایک مقصد یہ بھی ھے کہ جن ایجوکیٹرز نے ابھی تک B.Ed پاس نہیں کیا ھے؛ وہ ترجیحی بنیادوں B.Ed پاس کر لیں کیونکہ پنجاب کے کچھ اضلاع کے ایجوکیٹرز کو مقررہ مدت میں B.ED نہ کرنے کی بناء پر سروس سے  Terminate بھی کیا جا چکا ھے-*

*♦️(12) بعض اضلاع میں ایجوکیٹرز کو مندرجہ بالا تاریخوں کے علاوہ بھی ریگولر کیا گیا ھے جو کہ غلط ھے اور کسی بھی وقت ان ایجوکیٹرز کو اپنی ریگولرائزیشن Date درست کروانے کے لئے Corrigendum آرڈرز جاری کروانے پڑیں گے-*

*♦️(13)حکومت پنجاب کی منظوری کے بعد SED پنجاب کی طرف سے ایجوکیٹرز کے چاروں ریگولرائزیشن نوٹیفیکیشنز مندرجہ ذیل تاریخوں کو جاری ھوئے:*

*1= 19-10-2009*
*2= 10-09-2011*
*3= 07-08-2015*
*4= 30-04-2018*

*ان چاروں نوٹیفیکیشز کے مطابق With immediate Effect ایجوکیٹرز کو ریگولر کیا جانا تھا لیکن کچھ اضلاع کے CEOs اور DEOs کی طرف سے ایجوکیٹرز کو ریگولر آ ڈرز Issue کرنے کی تاریخ سے مستقل کر دیا گیا ھے جو کہ سروس رولز کے خلاف ھے-*

*مثال کے طور پر:*
*اگر 2012 میں بھرتی ھونے والے کسی ایجوکیٹرکی مورخہ 2015-08-07 کو اکیڈمک اور پروفیشنل تعلیم (بی ایڈ) پوری تھی لیکن وہ اگر کسی بھی وجہ سے ریگولر آرڈرز کے لئے بروقت پرسنل فائل جمع نہیں کروا سکا یا ریگولر آرڈرز کے سکروٹنی Process میں چند سال بھی گزر گئے اور آرڈرز 2018 میں جاری ھوئے؛ تب بھی ریگولر آرڈرز کی Effective تاریخ 7 اگست 2015 ھی ھو گی-*

*♦️(14) کچھ اضلاع میں 2012 والے ایجوکیٹرز کو 2015-8-07 کی بجائے جنوری یا فروری 2016 سے ریگولر کیا گیا ھے- جسں سے مستقبل میں ایجوکیٹرز کے درمیان سنیارٹی کے حوالے سے اختلافات سامنے آنے کا قوی امکان ھے- وقتی طور پر ان ایجوکیٹرز کو دسمبر 2015 کی انکریمنٹ تو مل گئی ھے جو کہ اگست 2015 سے ریگولر ھونے والوں کو نہیں ملی لیکن جب بھی پنجاب لیول SST کی پروموشن سنیارٹی لسٹ بنے گی تو بعد کی ریگولر Date کی وجہ سے یہ ایجوکیٹرز باقی اضلاع کے اپنے Batch Fellows سے جونئیر ھو جائیں گے لہذا ایسے ایجوکیٹرز کو یا متعلقہ ضلع کے PEA عہدیداران کو درست ریگولر Date کے Corrigendum آرڈرز کے لئے متعلقہ DEOs یا CEOs سے رابطہ کرنا چاھیے- شکریہ*

*♦️{ملک امجد محمود ؛*
  *0300-5118382*
*صوبائی صدر*
*"پنجاب ایجوکیٹرز ایسوسی ایشن پنجاب"}*

Saturday, 28 March 2020

اردو گرائمر

بسم اللہ الرحمان الرحیم 
علم صرف: سلسلہ نمبر 5

یاد آوری:

ہر آواز کو لفظ کہتے ہیں نیز لفظ کی دو اقسام ہیں ۔ 

۱: کلمہ(جسے لفظ موضوع بھی کہتے ہیں نیز لفظ کلمہ کی تین اقسام ہیں)

۲: مہمل(لفظ مہمل ایک ہی قسم ہے)

نوٹ: لفظ کلمہ کی درج ذیل تین اقسام ہیں ۔

۱: اسم (نام)
۲: فعل(کام)
۳: حرف(نامکمل لفظ)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اسم

بلحاظِ بناوٹ *اسم* کی تین اقسام ہیں ۔

۱: اسمِ جامد
۲: اسمِ مصدر
۳: اسمِ مشتق
--------

۱ :  *اسمِ جامد* 
لفظ کلمہ کی پہلی قسم  *اسمِ جامد* ہے ۔

*اسمِ جامد* کی وضاحت : 
اسم کے معنی نام اور جامد کے معنی ٹھوس (سخت) کے ہیں ۔

اسمِ جامد کی تعریف:
*اسمِ جامد* وہ اسم (لفظ) ہے جو خود کسی لفظ سے نہیں بنا اور نہ اسم جامد سے کوئی دوسرا لفظ بن سکتا ہے مطلب یہ ہے کہ اسم جامد نہایت ٹھوس(سخت لفظ) ہے خود بھی کسی لفظ سے نہیں بنا اور نہ اسم جامد سے کوئی دوسرا لفظ بنا ہے، یہ ہمیشہ سے تنہا ہے اور تنہا رہے گا ۔

*اسمِ جامِد* کی مثالیں: 
۱: قلم
۲: تلوار 
۳: پتھر 

*اسمِ جامِد*: وہ لفظ جو خود کسی لفظ سے نہ بنا ہو اور نہ اُس سے کوئی دوسرا لفظ بنے اُسے اسمِ جامد کہتے ہیں ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
2 : *اسمِ مَصدَر*

لفظ کلمہ کی دوسری قسم *اسمِ مصدر* ہے ۔

*اسمِ مصدر* کی وضاحت:

 *اِسمِ* کے معنی نام اور *مَصدَر* کے معنی صادر ہونے جگہ(نکلنے کی جگہ) کے ہیں دراصل اسمِ مصدر خود کسی لفظ سے نہیں بنا لیکن اسمِ مصدر سے دوسرے الفاظ نکلتے ہیں ۔
ہر *فعل*، اسمِ مصدر سے بنتا ہے ، بلکہ فعل کی بنیاد اسمِ مصدر ہے ۔
---------
اسمِ مصدر کی تعریف:
وہ اسم(لفظ) جو خود کسی لفظ سے نہ بنا ہو لیکن اُس سے دوسرا لفظ بن سکتا ہو اُسے اسمِ مصدرکہتے ہیں ۔

اسمِ مصدر کی مثالیں:
۱: سُننا
۲: پڑھنا 
۳: لکھنا 
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اسمِ مصدر کی پہچان 

اسمِ مصدر کی علامت: 
اسمِ کی علامت " نا " ہے،  اسمِ مصدر کے آخر " نا " کی علامت ہوتی ہے ۔
اسمِ مصدر کی مثالیں:
۱: سُننا (سُن + *نا*)
۲: پڑھنا (پڑھ + *نا*)
۳: لکھنا(لکھ + *نا*)

درج بالا مثالوں سے معلوم ہوا کہ اسمِ مصدر کے آخر " نا " کی علامت ہوتی ہے ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
*اسمِ مُشتَق*

لفظ کلمہ کی تیسری قسم *اسمِ مشتق* ہے ۔

اسمِ مشتق کی وضاحت: 
لفظ *مشتق* کے معنی " نکلا ہُوا " (ماخوذ) کے ہیں ، اسمِ مشتق کے معنی  " نکلا ہوا اسم " (نکلا ہوا لفظ) کے ہیں ، درحقیقت اسمِ مشتق 
اسمِ مصدر سے نکلا ہوا اسم (نام) ہے ۔
-----------
اسمِ مشتق 
اسمِ مشتق کی تعریف: وہ اسم جو قواعد کے مطابق اسمِ مصدر نکلے ۔

اسم مشتق: اسمِ مشتق دراصل اسمِ مصدر سے نکلا ہوا اسم ہے ۔

اسمِ مشتق کی مثالیں:

۱:  اسمِ مصدر " لکھنا " سے *" لکھائی "* اسمِ مشتق ہے ۔ 

(لکھنا سے *لکھائی*)

۲: اسمِ مصدر " پڑھنا " سے *" پڑھائی "* اسمِ مشتق ہے ۔ 

(پڑھنا سے *پڑھائی*) 

درج بالا مثالوں سے معلوم ہوا 
*لکھائی اور پڑھائی ، اسمِ مشتق ہے ۔*
-----------
جاری ہے ۔ ان شاءاللہ 

خاکسار 
عبدالحق 
بانی و سرپرست انجمن نفاذ اردو پاکستان 
رابطہ: 03005996067

اردو گرائمر

بسم اللہ الرحمان الرحیم 

علم صرف: سلسلہ نمبر 4

 " *زمانہ* " کے معنی *وقت* کے ہیں نیز قواعد کی زبان میں *وقت* کو *زمانہ* کہتے ہیں ۔

لفظ " *زمانہ* " کی جمع " *اَزمِنہ* " ہے۔

اردو زبان میں تین زمانے ہیں،  جن کو قواعد کی زبان میں 
" *اَزمِنہ ثلاثہ* "
 کہتے ہیں ۔ 

*ازمنہ ثلاثہ* کی تعریف: اردو زبان میں درج ذیل تین زمانے ہیں جنہیں ازمنہ ثلاثہ بھی کہتے ہیں ۔

۱: زمانہ ماضی 
۲: زمانہ حال 
۳:زمانہ مستقبل 
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
زمانہ ماضی کی تعریف: گزرا ہوا زمانہ ۔

زمانہ حال کی تعریف: موجودہ زمانہ ۔

زمانہ مستقبل کی تعریف: آنے والا زمانہ ۔

نوٹ: ہر *فعل* تعلق درج بالا ازمنہ ثلاثہ (ماضی،  حال،  مستقبل) میں سے کسی ایک زمانے کے ساتھ ہوتا ہے ۔
*فعل* کا تعلق زمانے کے ساتھ ہوتا ہے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
فعل کی مثالیں :

۱: فعل، " *آیا* "
 (آیا،  اِس فعل کا تعلق  گزرے ہوئے زمانےکے ساتھ تعلق ہے)

۲: فعل، " *آتاہے* " 
( آتا ہے،  اِس فعل کا تعلق  موجودہ زمانے کے ساتھ تعلق ہے)

۳: فعل،  " *آئے گا* "
 ( آئے گا،  اِس فعل کا تعلق زمانہ مستقبل کے ساتھ ہے)

درج بالا مثالوں سے معلوم ہوا کہ فعل کا تعلق زمانے کے ساتھ ہوتا ہے ۔
------------

نوٹ:  *اسم* کا تعلق زمانے کے ساتھ نہیں ہوتا ۔

اسم کی مثال:

اسم ، " *قلم* " 
( اسم،  قلم ، کا تعلق ماضی، حال اور مستقبل یعنی ازمنہ ثلاثہ میں سے کسی زمانے کے ساتھ نہیں ہے)

درج بالا مثال سے معلوم ہوا کہ اسم کا تعلق زمانے کے ساتھ نہیں ہوتا ۔
-------------

نوٹ :  " *حرف* " کا تعلق بھی زمانے کے ساتھ نہیں ہوتا ۔

حرف کی مثال: 
حرف،  " *کا* " 
( *کا* ، کا  تعلق ماضی، حال اور مستقبل اِن تین زمانوں میں سے  کسی زمانے کے ساتھ نہیں ہے)

درج بالا مثال سے معلوم ہوا کہ حرف کا تعلق بھی زمانے کے ساتھ نہیں ہوتا ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سلسلہ جاری ۔ ان شاءاللہ 


خاکسار 
عبدالحق 
بانی و سرپرست انجمن نفاذ اردو پاکستان

اردو گرائمر

بسم اللہ الرحمن الرحیم 

علمِ صرف: سلسلہ نمبر ۳

*لفظ* کی صرف دو اقسام ہیں ۔
۱: کلمہ
۲: مہمل 

لفظ  *کلمہ* کی تعریف: بامعنی لفظ (معنی رکھنے والے لفظ) کو کلمہ کہتے ہیں ۔ 
وہ لفظ جو سننے والے کی سمجھ میں آئے اُسے کلمہ کہتے ہیں ۔
لفظ *کلمہ* کی مثالیں:
 ۱: سچ ۔ ۲: جھوٹ ۔ ۳: پانی ۔ ۴: روٹی ۔
کلمہ کی جمع کلمات ہیں ۔
۔۔۔۔۔۔۔
لفظ  *مہمل* کی تعریف: بےمعنی لفظ (بغیر معنی والے لفظ) کو *مہمل* کہتے ہیں ۔

وہ لفظ جو سننے والے کی سمجھ میں نہ آئے اُسے *مہمل* کہتے ہیں ۔

*مہمل* کی مثالیں: سچ *مچ* ۔ جھوٹ *موٹ* ۔ پانی *وانی* ۔ روٹی *ووٹی* ۔

درج بالا امثال میں 
۱: *مچ* ۔ ۲: *موٹ* ۔ ۳: *وانی* ۔ ۴: *ووٹی* ۔ 
مہمل ہیں ۔

مہمل الفاظ بطور حُسن استعمال ہوتے ہیں، اِن کے استعمال سے کلام میں حُسن پیدا ہوتا ہے ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

لفظ   *کلمہ* کی تین اقسام ہیں:
۱: اسم 
۲: فعل 
 ۳: حرف

لفظ  *مہمل* صرف ایک قسم ہے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

لفظ *کلمہ* تین قسمیں ہیں ۔

۱: *اسم* کی تعریف: قواعد (گرامر) کی زبان میں *نام* کو  *اسم* کہتے ۔

 *اسم* عربی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی  *نام*  کے ہیں ۔

تمام جاندار و بے جان چیزوں کے *نام* کو  *اسم* کہتے ہیں ۔

لفظ  *اسم* کی مثالیں:
۱: محمد بن قاسم 
۲: کراچی 
۳: شیر 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
لفظ  *فعل*  کی تعریف: قواعد (گرامر) کی زبان میں *کام* کو  *فعل*  کہتے ہیں ۔

قواعد کی زبان میں ہر *کام* کو *فعل* کہتے ہیں ۔

لفظ *فعل* کی مثالیں:
۱: آیا 
۲: لکھا 
۳: پڑھا 
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

لفظ  *حرف* کی تعریف : وہ لفظ جو نہ فعل ہو اور نہ اسم ہو اُسے *حرف* کہتے ہیں ۔

*حرف* نامکمل لفظ ہے جو اکیلے معنی نہ دے بلکہ وہ لفظ جو اسم یا فعل سے مل کر معنی دے ایسے لفظ کو حرف کہتے ہیں ۔

نوٹ: *حرف* کا کام اسم اور فعل کے درمیان ربط پیدا کرنا ہے ۔ 

لفظ *حرف* کی مثالیں:
۱: کا 
۲: اور 
۳: سے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اسم اور حرف کا تعلق زمانے کے ساتھ نہیں ہوتا نیز فعل کا تعلق زمانے کے ساتھ ہوتا ہے ۔
اگلے سلسلہ نمبر ۴ میں زمانے کی تعریف کریں گے ۔ ان شاءاللہ


خاکسار 
عبدالحق 
بانی و سرپرست انجمن نفاذ اردو پاکستان 03005996067

اردو گرائمر

قواعدِ کی تعریف:  زبان کو صحیح طور پر سمجھنے، پڑھنے اور لکھنے کے اصول (قوانین) ہوتے ہیں اِن قوانین کو قواعد کہا جاتا ہے ۔
قواعد کو انگریزی میں گرائمر کہتے ہیں ۔

قواعدِ اردو : قواعدِ اُردو کے بنیادی دو علوم ہیں ۔

۱: علمِ صرف 
۲: علمِ نحو 

علمِ صرف کی تعریف: صرف کے لغوی معنی *پھیر* (چکر/ گردش) کے ہیں ۔
قواعد میں علمِ صرف سے مراد وہ علم ہے جس کے ذریعے ہم " لفظ " کے متعلق علم حاصل کرتے ہیں ۔

*علمِ صرف وہ علم ہے جس کا موضوع " لفظ " ہے اِس لیے ہم علمِ صرف میں " لفظ " پر بحث کریں گے۔* ان شاءاللہ 
علمِ صرف کے ذریعے ہم لفظ سے لفظ بنانے کا طریقہ سیکھتے ہیں اور ہمیں لفظ کی اصلیت کا علم حاصل ہوتا ہے ۔

*لفظ* 
لفظ کی تعریف: جاندار و بےجان کی ہر آواز کو لفظ کہتے ہیں ۔
*ہر آواز کو لفظ کہتے ہیں ۔* 

نوٹ: ہر لفظ دو یا دو زیادہ حروفِ تہجی کا مجموعہ ہوتا ہے ۔
مثالیں: کب ۔ کتاب ۔
 ۱: ک + ۲: ب = کب

۱: ک + ۲: ت + ۳: ا + ۴: ب = کتاب 
__________________________
لفظ کی درج بالا امثال سے معلوم ہوا کہ لفظ کم از کم دو حروفِ تہجّی کا مجموعہ ہوتا ہے اور زیادہ سے زیادہ کی حد مقرر نہیں ہے ۔

لفظ  " کب " دو حروفِ تہجی کا مجموعہ ہے ۔
لفظ " کتاب " چار حروفِ تہجی کا مجموعہ ہے ۔

ساہیوال ٹیچرز کمیونٹی 

Friday, 6 July 2018

#Silent_Letters_in_English

#Silent_Letters_in_English
'''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''
What is Silent Letter?
'''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''
A silent letter is the letter in words that is not pronounced but make a huge difference to the meaning and pronunciation of the whole word.
Looking back to the history of the language, these letters were pronounced initially, and then they became silent. There are a lot of silent letters in English, it’s said that around 60 % of words in English have silent letters. This makes spelling and pronunciation more difficult for learners. Below we will look at some silent letter rules that will help you recognize when certain letters are to be silent.
------------------------------------
#Silent_Letters_in_English
There are some rules that explain which letters are supposed to be silent, before and after certain letters (the only issue about this is that, like all English rules – there are usually some exceptions!). once you start practicing these rules and using with new vocabulary that you learn, it will become easier to remember silent letters in English.
*#Silent_B*
Rule 1: The letter B is usually not pronounced after M at the end of a word.
• Comb, bomb, thumb, climb, tomb, crumb, lamb
Rule 2: B is usually not pronounced before the letter T.
• Doubt, doubtful, subtle, debt.
*#Silent_C*
Rule 1: The letter C is usually not pronounced in the combination of SC.
• Scissors, ascent, fascinate, muscle.
Rule 2: C is usually mute before the letters K and Q.
• Lock, block, puck, acknowledge.
• Aqua, Acquit, Acquiesce.
*#Silent_D*
Rule 1: The letter D is silent when it appears before the letters N and G.
• Wednesday, cadge, Pledge, grudge.
Rule 2: D is not pronounced in the following Common words:
• Wednesday, handsome, handkerchief, sandwich.
*#Silent_E*
Rule 1: If the letter E comes at the ends of words, it is generally not pronounced.
• Fore, table, before, write, give, hide.
Rule 2: If E occurs before the letter D in the second and third form of the verbs, E may sometimes not to be pronounced.
• Bored, fixed, smuggled, begged.
*#Silent_G*
Rule 1: The G letter is not pronounced when it comes before N in a word.
• Design, foreign, sign, gnash, align.
Exceptions: Magnet, igneous, cognitive, signature
*#Silent_GH*
Rule 1: GH is not pronounced when it comes after a vowel in a word.
• High, light, thought, through alight.
Rules 2: Exceptions: GH is pronounced separately in compound words (As you can see in the following words that exceptions are generally compound words).
• Doghouse, bighead, foghorn.
Rule 3: Except examples from rule 1, GH is sometimes pronounced like F, consider the words below.
• Drought, cough, laugh, tough.
*#Silent_H*
Rule 1: The letter H is usually silent when it appears after W.
• Why, what, when, weather, where.
Rule 2: Sometimes the letter H is not silent after W, consider the words below.
• Whose, whosoever, who, whoever, whole.
Rule 3: H is mute at the beginning of many words (remember to use the article “an” with unvoiced H).
• Hour, honest, honour, heir.
Rule 4: Exceptions: Most of the words beginning with H are not silent (remember to use the article “a” with voiced H)
• History, Historical, Hair, Happy.
*#Silent_K*
Rule: The letter K is always silent when it precedes the letter N in a word.
• Know, knock, knife, knight, knowledge.
*#Silent_L*
Rule: The letter L is usually not pronounced after the vowels: A, O and U.
• Calf, half, palm, would, should, could, folk, yolk.
*#Silent_N*
Rule: The letter N is not pronounced when it comes after M at the end of a word.
• Column, damn, solemn, autumn.
*#Silent_P*
Rule: The letter P is not pronounced at the he beginning of many words using the combinations PS, PT and PN.
• Psalm, psephology, pterodactyl, pneumonia, pneumatic.
*#Silent_PH*
Rule: PH is sometimes pronounced like F.
• Sophia, paragraph, elephant, telephone.

Monday, 2 July 2018

*What Are Affixes

*What Are Affixes?*
 
An *affix* is added to the root of a word to change its meaning.

*Different Types of Affixes:*
The two most common types of *affixes* are *prefixes* and *suffixes*.

An *affix* added to the front of a word is known as a *prefix*. One added to the back is known as a *suffix*. Sometimes, *prefixes* are hyphenated.

*Examples of Affixes:*
Here are some examples of *affixes*:
1- incapable (The affix is the prefix in).

2- ex-President (The affix is the prefix ex-).

3- laughing (The affix is the suffix ing).
-----------
A *prefix* is an element placed at the beginning of a word to adjust or qualify its meaning, for example de-, non-, and re-.

A *suffix* is an element placed at the end of a word to form a derivative, such as -ation, -fy, -ing, frequently one that converts the stem into another part of speech.

A combining form can be either a *prefix* or a *suffix*; the difference is that the combining form adds a layer of extra meaning to the word.
For example, bio- adds the idea of life or living things to words, as in biochemistry, the study of the chemical processes which occur within living organisms; -cide adds the idea of killing or a killing agent, as in pesticide. Compare these examples with a *prefix* such as ex- or a *suffix* such as -ic, neither of which add meaning, but only modify an existing meaning.

Combining forms only appear as elements in a compound. If it can stand alone as a word it is not a combining form. For example, carbo- only appears in compounds to indicate carbon, but there are many related words that begin with carbon-; these are considered to be compound words and carbon- is not listed on this site as a combining form. Having said that, in some cases a combining form has at some point in its life taken on the status of a free-standing word (cyber- is an example), but if its primary function is as a combining form, it appears in its place in the text.

To be a combining form an element must be found attached to stems that also have intrinsic meaning; this excludes stems whose only compounds are grammatical variations, such as intense (intensive, intensively, intensiveness).
---------------
An *infix* is placed within a word; these are rare in English, though cupful can be made plural as cupsful by inserting the plural s as an *infix*; *infixes* sometimes occur in facetious creations like absobloodylutely (which some grammarians would rather describe as tmesis). Infixes often appear as linking vowels between *prefixes* and stems, for example the final letters of narco- and calci-. They are also found between a stem ending in a consonant and a *suffix* beginning with one, as with -ferous, which frequently appears as -iferous, or -logy, which is commonly seen as -ology. The only examples of such linking vowel *infixes* here are -i- and -o-.

No formal identification is made in the text of the class of *affix* to which entries belong. The position of the hyphen is sufficient indication whether it is placed at the beginning, in the middle or at the end of a word: neo-, -i-, -graphy.
----------------------
*Most Common Prefixes:*
The four most common *prefixes* are dis-, in-, re-, and un-. These account for over 95% of prefixed words.

*Most Common Suffixes:*
The four most common *suffixes* are -ed, -ing, -ly, and -es. These account for over 95% of suffixed words.